حدیث نمبر: 5361
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَعْدِي قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا الْبَيْتَ نَقُولُ : ¤ هَذِي زُبَيْدُ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا تَغْـدُو بِهَـا مُضْمِرَاتٌ شَـزْرًا يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وُعْـرًا ¤ قَدْ تَرَكُوا الْأَصْنَامَ خَلْوًا صُفْرًا وَنَحْنُ الْيَوْمَ نَقُولُ كَمَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا مِنْ قَرْنٍ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا قُلْنَا : ¤ لَبَّيْكَ تَعْظِيمًا إِلَيْكَ عُذْرًا هَذِي زُبَيْدُ قَدْ أَتَتْكَ قَسْـرًا ¤ يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وُعْرًا قَدْ خَلَّفُوا الْأَنْدَادَ خَلْوًا صُفْرًا ¤ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ نَخَافُ أَنْ تَخْطَفَنَا الْجِنُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ إِذَا أَسْلَمُوا " . وَعَلَّمَنَا التَّلْبِيَةَ . فَذَكَرَهُ . ¤ وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ قُطَامِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ الْبَزَّارُ : إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالثَّابِتِ ، وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : وَكُنَّا نَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَقِفُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحُولَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عُرَنَةَ ، فَإِنَّمَا كَانَ مَوْقِفُهُمْ بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَرَقًا أَنْ تَخْطِفَهُمُ الْجِنُّ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب ہم بیت اللہ کا حج کرتے تھے تو ہم یہ پڑھا کرتے تھے : ” زبید قبیلے کا ہذیان ، جو مجبور ہو کر تیرے پاس آیا ہے ، وہ بچ بچا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آیا ہے ، انہوں نے خوف کے عالم میں چٹیل زمین اور پہاڑ پار کیے ہیں ، اور وہ پیچھے ایسے بت چھوڑ کر آئے ہیں جو اکیلے رہ گئے ہیں اور خالی ( نا مراد ) ہیں “ ۔ اور آج ہم وہ پڑھتے ہیں جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ ! تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہیں اور بادشاہی بھی اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم قرن سے تعلق رکھتے ہیں ہم جب حج کے لئے آتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے : ” میں تعظیم کا اظہار کرتے ہوئے حاضر ہوں ، اور تیری بارگاہ میں عذر پیش کرتا ہو ، جو زبید قبیلے کا ہذیان ہے ، وہ مجبور ہو کر تیری طرف آئے ہیں ، انہوں نے گھبراہٹ کے عالم میں چٹیل زمین اور پہاڑ پار کیے ہیں ، اور وہ بتوں کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ اکیلے اور نامراد رہ گئے ہیں “ ۔ اور مجھے اپنے بارے میں یہ یاد ہے کہ ہم وادی محسر کے نشیبی حصے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کوئی جن ہمیں اچک نہ لے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بطن عرنہ سے ذرا اوپر کی طرف ہو جاؤ جب یہ اسلام قبول کر لیں تو یہ ( جنات ) تمہارے بھائی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلبیہ کی بھی تعلیم دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ؟ اس روایت کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ امام بزار کہتے ہیں اس کی سند ثابت نہیں ہے ۔
امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہم زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو وقوف کرنے سے منع کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ان کے اور عرنہ کے درمیان حائل ہو جائیں کیونکہ عرفہ کی شام ان کے وقوف کی جگہ ان کے وقوف کی جگہ وادی محسر کا نشیبی حصہ ہوتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں جنات ان کو اچک نہ لیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (46/17 و 47 ) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (146 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (157) اخرجه البزار فى المسند (1093)»