حدیث نمبر: 531
وَعَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ ، كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ مُعْطُوهُ قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ ، قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ قَلِيلٌ مُعْطُوهُ ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

حزام بن حکیم ، اپنے چچا کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، جن لوگوں کو وہ ( علم ) دیا گیا ، وہ زیادہ ہیں اور اس کو مانگنے والے ( طلب کرنے والے ) کم ہیں ، اس زمانے میں عمل کرنا ، علم سے زیادہ بہتر ہے ، عنقریب ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں علماء کم ہوں گے اور خطیب زیادہ ہوں گے ، اس ( علم ) کو مانگنے والے زیادہ ہوں گے ، اور جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ، وہ کم ہوں گے ، اس زمانے میں علم ، عمل سے بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف