مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ سَفَرِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کا سفر کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ ، فَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَقَالَ : " لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ ، وَلَا تَتَقَدَّمَنَّ امْرَأَةٌ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ارشاد فرمایا : کوئی بھی شخص عصر کے بعد رات ہونے تک ( یعنی سورج غروب ہونے تک ) اور صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز ادا نہ کرے اور عورت اپنے محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے اور کوئی عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ پر آگے نہ آئے ( یعنی اپنی خالہ یا پھوپھی کے شوہر سے شادی نہ کرے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے صبح کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔