حدیث نمبر: 5299
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَاهُ ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ ، فَإِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَنَزِّلُوهَا مَنَازِلَهَا ، فَإِنْ أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَانْجُوا عَلَيْهَا ; فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَى بِالنَّهَارِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ بِالطَّرِيقِ ; فَإِنَّهُ طَرِيقُ الدَّوَابِّ ، وَمَأْوَى الْحَيَّاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

خالد بن معدان نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ مہربان ہے ، اور نرمی کو پسند کرتا ہے ، اور اس سے راضی ہوتا ہے ، اور اس پر ایسی مدد کرتا ہے ، جو سختی پر مدد نہیں کرتا ہے ، جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو تو ان کے پڑاؤ کی جگہ پر انہیں ٹھہراؤ اور اگر زمین خشک سالی والی ہو ، تو وہاں سے جلدی گزر جاؤ اور رات کے وقت زمین کو یوں لپیٹ دیا جاتا ہے ، جو دن کو نہیں لپیٹا جاتا اور تم پر لازم ہے کہ تم رات کے وقت راستے میں پڑاؤ کرنے سے بچو کیونکہ وہ جگہ یہ درندوں کا راستہ اور سانپوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح