مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَأَرَادَ الصَّوْمَ . باب: جو شخص کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے اور وہ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَهُوَ طَوِيلٌ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ; ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا کرے تو اسے بکثرت «الحمدلله» کہنا چاہیے جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں ، اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے جس شخص کا رزق تاخیر سے آتا ہو اسے کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة الا باالله» پڑھنا چاہیے اور جو شخص کسی کے ہاں مہمان ٹھہرے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر ہرگز ( نفلی ) روزہ نہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ ایک طویل روایت ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے ، جسے امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔