حدیث نمبر: 5212
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُحْيِي لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وَيَصُومُ يَوْمَهَا فَأَتَاهُ سَلْمَانُ - وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَهُمَا - فَنَامَ عِنْدَهُ فَأَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ لَيْلَتَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ فَلَمْ يَدَعْهُ حَتَّى نَامَ وَأَفْطَرَ فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُوَيْمِرُ ، سَلْمَانُ أَعْلَمُ مِنْكَ ; لَا تَخُصَّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِصَلَاةٍ ، وَلَا يَوْمَهَا بِصِيَامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہ شب جمعہ میں رات بھر عبادت کرتے تھے ، اور جمعہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہوا تھا سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان کے ہاں سو گئے سیدنا ابودرداء نے رات کے وقت اٹھ کر نوافل ادا کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیا یہاں تک کہ وہ سو گئے اگلے دن انہیں روزہ بھی نہیں رکھنے دیا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عویمر ! سلمان تم سے زیادہ علم رکھتا ہے تم جمعہ کی شب کو نماز ادا کرنے کے لئے اور اس کے دن کو روزہ رکھنے کے لئے مخصوص نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6056) اخرجه احمد فى المسند (444/6)»