مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَمُجَالَسَتِهِمْ . باب: علماء اور ان کی ہم نشینی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 519
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَالِسُوا الْكُبَرَاءَ ، وَسَائِلُوا الْعُلَمَاءَ ، وَخَالِطُوا الْحُكَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ : إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَالْأُخْرَى مَوْقُوفَةٌ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَالْمَوْقُوفُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بڑوں کے ساتھ بیٹھو ! علماء سے سوال کرو اور حکماء ( یعنی دانشمند افراد ) سے گھل مل کے رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک روایت یہ ہے ۔ جبکہ دوسری روایت موقوف ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، ( ان دونوں روایت میں سے ) موقوف روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔