حدیث نمبر: 5166
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ ، فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَالَ لَهُ : اشْرَبْ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ يُفْطِرُ ; أَوْ يَصُومُ الدَّهْرَ . قَالَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " . وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا وہ مشروب تمام حاضرین کے پاس لے جایا گیا ان میں ایک روزہ دار شخص موجود تھا جب اس کے پاس مشروب پہنچا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پی لو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ شخص کوئی نفلی روزہ نہیں چھوڑتا ہے یہ مسلسل نفلی روزے رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” شخص ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ ترک کیا “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (179/24) اخرجه احمد فى المسند (455/6)»