حدیث نمبر: 5165
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةٌ لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : إِنَّهَا قَامَتِ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأُفْطِرُ ، فَمَنِ اقْتَدَى بِي فَهُوَ مِنِّي ، وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ، إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ ثُمَّ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بِدْعَةٍ فَقَدْ ضَلَّ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

مجاہد بیان کرتے ہیں : میں اور یحییٰ بن جعدہ ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو عبدالمطلب کی ایک کنیز کا ذکر کیا گیا تو کہنے والے نے یہ کہا: وہ رات بھر نفل پڑھتی رہتی ہے ، اور دن میں روزہ رکھتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، لیکن میں تو ( رات کے وقت ) سو بھی جاتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور ( نفلی ) روزہ ترک بھی کر دیتا ہوں تو جو شخص میری اقتداء کرے گا وہ مجھ سے ہو گا ، اور جو میری سنت سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ہر عمل کے لئے ایک چستی ہے پھر اس میں سستی آ جاتی ہے ، جس شخص کی سستی بدعت کی طرف ہو گی وہ گمراہ ہو جائے گا ، اور جس شخص کی سستی میری سنت کی طرف ہو گی وہ ہدایت پا لے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس کی مانند کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «. اخرجه احمد فى المسند (409/5)»