مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الصِّيَامِ فِي شَعْبَانَ . باب: شعبان کے روزے رکھنا
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَيْكَ أَنْ تَصُومَهُ شَعْبَانُ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَكْتُبُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مَنِيَّةٍ تِلْكَ السَّنَةَ ، فَأُحِبُّ أَنْ يَأْتِيَنِي أَجَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا تقریبا پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزے رکھنے کے حوالے سے آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ ہر جان کے حوالے سے اس سال کے مخصوص معاملات مقرر کر دیتا ہے ( یعنی اس سال میں جس نے مرنا ہے ۔ ان کی معلومات فرشتوں کو منتقل کر دیتا ہے ) تو مجھے یہ پسند ہے کہ جب میری موت کا حکم آئے ، تو میں نے روزہ رکھا ہوا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔