مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ . باب: عرفہ کے دن روزہ رکھنا
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَفْطِرِي ! فَقَالَتْ : أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ " ؟ ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ بَلْ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَا أَعْلَمُهُ لَقِيَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور ان پر پانی چھڑکا جا رہا تھا سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم روزہ ختم کر دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عرفہ کے دن کا روزہ اس سے پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے بلکہ یحیی بن معین کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق اس نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔