حدیث نمبر: 5132
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ فَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ : قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ . وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا فَجَرَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أُخَرَ ، ذَلِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ أُهْبِطَ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَ نُوحٌ وَمَنْ مَعَهُ وَالْوَحْشُ شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَلَقَ اللَّهُ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ تَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَدِينَةِ يُونُسَ ، وَفِيهِ وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالعزیز بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مطر رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رجب ایک عظیم مہینہ ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا بدلہ کئی گنا دیتا ہے ، جو شخص رجب کے ایک دن روزہ رکھتا ہے ، تو گویا اس نے ایک سال روزہ رکھا اور جو شخص اس کے سات روزے رکھتا ہے اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے دس روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالٰی سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کرے گا ، جو شخص اس کے پندرہ روزے رکھتا ہے ، تو آسمان میں ایک منادی اعلان کر کے یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے اب تم نئے سرے سے عمل کرو جو شخص جتنا زیادہ کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید اجر و ثواب عطا کرتا ہے رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کرایا انہوں نے رجب کے روزے رکھے تھے ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا ان کی کشتی سات ماہ تک چلتی رہی تھی اور پھر عاشوراء کے دن وہ جودی پہاڑ کے ساتھ آ کر لگ گئی تھی تو سیدنا نوح علیہ السلام نے اور ان کے ساتھیوں نے اور جانوروں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر ( دریائے نیل ) کو چیر دیا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی اور سیدنا یونس علیہ السلام کے شہر والوں کی ، توبہ قبول کی تھی اور اسی دن میں سیدنا ابرہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5132
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5538)»