حدیث نمبر: 5110
وَعَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

بعجہ بن عبدالله بن بدر بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : یہ عاشوراء کا دن ہے ، تو تم اس میں روزہ رکھو بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی قوم کو ایسی حالت میں چھوڑا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں کی طرف جاؤ اور ان میں سے جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ اپنے روزے کو مکمل کرے ( یعنی باقی دن میں کچھ نہ کھائے پیئے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (467/6)»