حدیث نمبر: 5093
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . وَبِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَائِحَةِ الْمِسْكِ ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ مِنْكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنْ إِنْسَانٌ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَإِنَّ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا يَرِدُهُ غَيْرُ الصُّوَّامِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ الْحَوْضُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ” روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا“ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے مطابق ” روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے تم میں سے جو بھی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرتا ہے ، تو وہ فحش کلامی نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے اگر کوئی اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے ، تو وہ یہ کہہ دے : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن ایک حوض ہو گا اس حوض پر روزہ داروں کے علاوہ کوئی اور نہیں آئے گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن اختصار کے ساتھ ہے ، جس میں صرف حوض کا تذکرہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن