مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَعَالَى قَالَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ يُجَنُّ بِهَا عَبْدِي مِنَ النَّارِ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي . ¤ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِ هَذَا ، وَحَدِيثُ بَشِيرٍ أَخْرَجْتُهُ ; لِأَنَّ إِسْنَادَهُمَا وَاحِدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَجُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ وَثَّقَهُ قَتَادَةُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤قتادہ نے جریر بن کلیب کے حوالے سے بشیر بن خصاصیہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ہمارے اصحاب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” روزہ ایک ڈھال ہے ، جس کے ذریعے میرا بندہ جہنم سے بچاؤ کرتا ہے روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا وہ میری خاطر اپنے کھانے اور خواہش کو ترک کر دیتا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، اور سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو میں پہلے نقل کر چکا ہوں ، کیونکہ ان دونوں کی سند ایک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ جری بن کلیب نامی راوی کو قتادہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔