حدیث نمبر: 5074
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصْبِحُ صَائِمًا إِلَّا فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَسَبَّحَتْ لَهُ أَعْضَاؤُهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تَوَارَى بِالْحِجَابِ ، فَإِنْ صَلَّى رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا أَضَاءَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ نُورًا ، وَقُلْنَ أَزْوَاجُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : اللَّهُمَّ اقْبِضْهُ إِلَيْنَا فَقَدِ اشْتَقْنَا إِلَى رُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ هُوَ هَلَّلَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ تَلَقَّتْهُ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَهَا إِلَى أَنْ تَوَارَى بِالْحِجَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جو بھی بندہ روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرتا ہے اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اس کے اعضاء اس کے لئے تسبیح کرتے ہیں آسمان دنیا والے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حجاب کے پیچھے چھپ جاتے ہیں یہاں تک کہ اگر وہ ایک یا دو رکعات نفل ادا کر لے تو اس کے لئے آسمان نور کو روشن کر دیتا ہے ، اور حورعین سے تعلق رکھنے والی اس کی بیویاں کہتی ہیں : اے اللہ ! اسے ہماری طرف لے آ ! کیونکہ ہم اسے دیکھنے کی مشتاق ہیں اگر وہ شخص «لا اله الا الله» پڑھتا ہے ، یا «سبحان الله» پڑھتا ہے ، یا «الله اكبر» پڑھتا ہے ، تو فرشتے اس سے ملتے ہیں اور ان کلمات کو نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حجاب کے پیچھے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5074
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (840)»