مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ . باب: روزے کی فضیلت
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنَ آدَمَ بِعَشَرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ ؛ فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ; فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ جَاهِلٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " . ¤ وَلَهُ أَسَانِيدُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ انسان کی نیکی کو دس گنا سے لے کے سات سو گنا تک کر دیتا ہے ، البتہ روزے کا معاملہ مختلف ہے ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ” روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک خوشی افطاری کے وقت ملتی ہے ، اور ایک خوشی قیامت کے دن نصیب ہو گی ، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ قبیح کلام نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرئے ، اگر کوئی جاہل اس کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کر تو وہ یہ کہہ دے میں نے روزہ رکھا ہوا ہے “ ۔ اس روایت کی مختلف اسانید ہیں جو امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کے بعض طرق کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔