مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
حدیث نمبر: 5061
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا وَنَحْنُ قُعُودٌ فَأَفْزَعْنَا سُرْعَتَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ أَقْبَلْتُ إِلَيْكُمْ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَنَسِيتُهَا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ [ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ وَفِيهِ ] كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے آئے ہم بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ کی تیزی نے ہمیں پریشان کر دیا جب آپ ہمارے پاس آئے ، تو آپ نے ہمیں سلام کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کی طرف اس لئے آیا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں پھر تمہارے پاس پہنچنے تک اسے بھول گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔