حدیث نمبر: 5058
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ [ شَهْرِ ] رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَا كَإِحْيَائِهِ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ . فَقِيلَ لَهُ : كَيْفَ تُحْيِي لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ فِيهَا نَزَلَ الْقُرْآنُ ، وَفِي صَبِيحَتِهَا فُرِّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَكَانَ فِيهَا يُصْبِحُ مُبْهِجَ الْوَجْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ رمضان کے مہینے کی تیئسویں رات اور ستائیسویں رات میں رات بھر عبادت کیا کرتے تھے ، لیکن جس طرح وہ ستر ہوئیں رات میں عبادت کرتے تھے اس طرح نہیں کرتے تھے ان سے کہا: گیا آپ سترہویں رات اہتمام کے ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ وہ رات ہے ، جس میں قرآن نازل ہوا جس کی اگلی صبح حق اور باطل کے درمیان فرق ہو گیا ( یعنی غزوہ بدر ہوا ) راوی کہتے ہیں : اس رات میں ان کی حالت یہ ہوتی تھی ، کہ ان کا چہرہ چمکدار ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5058
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4865)»