حدیث نمبر: 5053
وَعَنْ مَرْثَدٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَسَأَلْتُهُ : عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ بِأَسْأَلَ لَهَا مِنِّي . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَزَلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِوَحْيٍ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تُرْفَعُ ؟ قَالَ : " بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّتُهُنَّ هِيَ ؟ قَالَ : " لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنِ الْتَمِسْهَا فِي التِّسْعِينَ وَالسَّبْعِينَ وَلَا تَسْأَلْنِي بَعْدَهَا " . قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي أَيِّ السَّبْعِينَ هِيَ ؟ فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضْبَةً لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا مِثْلَهَا ثُمَّ قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْهَا ؟ لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنْ . . " وَذَكَرَ كَلِمَةً " . . أَنْ تَكُونَ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . وَمَرْثَدٌ هَذَا لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِيهِ مَالِكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مرشد بیان کرتے ہیں : درمیانی جمرہ کے قریب میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی اور نے سوال نہیں کیا انہوں نے بتایا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ رات انبیاء پر وحی کے ذریعے ان کی طرف نازل ہوئی تھی اور پھر اٹھا لی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ بلکہ یہ قیامت کے دن تک رہے گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون سی رات کو ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے اجازت ملی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، لیکن تم اسے نویں یا ساتویں رات میں تلاش کرو اور اس کے بعد تم مجھ سے سوال نہ کرنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بات چیت کرنے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سات راتوں میں سے یہ کون سی ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اتنے غضبناک ہوئے کہ آپ اس سے پہلے اور اس کے بعد مجھ پر کبھی اتنے غضبناک نہیں ہوئے تھے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا کہ اگر مجھے اس کے بارے میں اجازت دی گئی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا البتہ ( اس کے بعد راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا ہے ، جو عبارت میں ذکر نہیں ہوا ) یہ آخری سات راتوں میں ہو سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور مرثد نامی اس راوی سے اس کے باپ مالک کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5053
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (171/5) اخرجه البزار فى المسند (1035 و1036)»