مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ .
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ مَرَّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَوَقَفَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ السُّوقِ ، مَا أَعْجَزَكُمْ ؟ قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسَّمُ وَأَنْتُمْ هَاهُنَا ، أَلَا تَذْهَبُونَ فَتَأْخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ ؟ قَالُوا : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجُوا سِرَاعًا وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا ، فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقَسَّمُ ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا ؟ قَالُوا : بَلَى ، رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ ، وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَيْحَكُمْ ، فَذَاكَ مِيرَاثُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کے بازار سے گزر رہے تھے ، وہ ٹھہر گئے ، اور بولے : اے بازار والو ! تم لوگوں کو کس چیز نے عاجز کر دیا ہے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! کیا ہوا ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں موجود ہو ، تم لوگ جا کر اپنا حصہ کیوں نہیں وصول کرتے ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : وہ کہاں ( تقسیم ہو رہی ) ہے ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مسجد میں ، تو وہ لوگ جلدی سے چلے گئے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں کی خاطر وہیں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ واپس آ گئے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! ہم لوگ مسجد گئے ، اُس میں داخل ہوئے ، ہمیں اُس میں کوئی چیز تقسیم ہوتی دکھائی نہیں دی ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے مسجد میں کسی کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یعنی دیکھا ہے ) ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اور کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ حلال اور حرام کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، یہی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔