حدیث نمبر: 503
وَعَنْ سَخْبَرَةَ قَالَ : مَرَّ رَجُلَانِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَهُوَ يَذْكُرُ ، فَقَالَ : " اجْلِسَا ، فَإِنَّكُمَا عَلَى خَيْرٍ " ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، فَقَامَا ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا : اجْلِسَا ، فَإِنَّكُمَا عَلَى خَيْرٍ ، أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةَ مَا تَقَدَّمَ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت تشریف فرما تھے ، اور آپ وعظ و نصیحت کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ! تم بھلائی پر ہو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے اصحاب آپ کے پاس سے چلے گئے ، تو وہ دونوں افراد بھی کھڑے ہوئے ، اور ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہم سے یہ فرمایا تھا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ! تم بھلائی پر ہو ! تو کیا یہ حکم ہمارے لئے مخصوص ہے ؟ یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی بندہ علم حاصل کرتا ہے ، تو یہ چیز ( یعنی علم کا حصول ) اُس کے گذشتہ ( گناہوں کا ) کفارہ بن جاتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص علم حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے گذشتہ ( گناہوں کا ) کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع