مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُهَا مِنْ حَصِيرٍ ، وَالنَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ . باب: اعتکاف کا بیان
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : قَوْمٌ عُكُوفٌ بَيْنَ دَارِكَ وَدَارِ أَبِي مُوسَى أَلَا تَنْهَاهُمْ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَعَلَّهُمْ أَصَابُوا وَأَخْطَأْتُ ، وَحَفِظُوا وَنَسِيتُ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : ( أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَلِمْتُ بِأَنَّهُ ) لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدِ مَكَّةَ ، وَمَسْجِدِ إِيلِيَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کچھ لوگ آپ کے گھر اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر کے درمیان ( موجود مسجد میں ) اعتکاف کرتے ہیں کیا آپ ان لوگوں کو منع نہیں کرتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ٹھیک ہوں اور میں غلطی پر ہوں انہیں بات یاد ہو ، اور میں بھول گیا ہوں تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں تو یہ بات جانتا ہوں کہ اعتکاف صرف ان تین مساجد میں کیا جا سکتا ہے مسجد مدینہ ، مسجد مکہ اور مسجد ایلیاء میں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔