مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُهَا مِنْ حَصِيرٍ ، وَالنَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ . باب: اعتکاف کا بیان
حدیث نمبر: 5024
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ أَوَّلَ سَنَةٍ الْعَشْرَ الْأُوَلَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ وَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِيهَا فَأُنْسِيتُهَا " . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِيهِنَّ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سال پہلے عشرے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے آخری عشرے میں اعتکاف کیا آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے شب قدر کو اس عشرے میں دیکھا تھا پھر وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے وصال فرمانے تک آخری عشرے میں ہی اعتکاف کرتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔