مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ قِيَامِ رَمَضَانَ . باب: رمضان کے قیام ( یعنی نوافل کا بیان )
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا ، فَلَمْ يَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا ؟ قَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر ادا کیے جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکھٹے ہوئے ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے ، لیکن آپ مسلسل گھر میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم مسجد میں اکٹھے ہوئے تھے ، اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ یہ تم پر لازم قرار دے دی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔