مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ .
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدِي هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ كَانَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَحَادِيثِ النَّاسِ كَانَ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يَرَى مَا يُعْجِبُهُ ، وَهُوَ شَيْءٌ لِغَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَفَّهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يَسْتَنِدُوا فِي ضَعْفِهِ إِلَّا إِلَى أَنَّهُ مَحْدُودٌ ، وَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میری اس مسجد میں داخل ہو ، تاکہ وہ بھلائی کا علم حاصل کرے ، یا اُس کی تعلیم دے ، تو ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کے مرتبے میں ہوتا ہے اور جو شخص اس مسجد میں اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے داخل ہو ، یعنی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے آئے ، تو وہ ایسے شخص کے مرتبے میں ہوتا ہے ، جو کسی چیز کو دیکھتا ہے ، اور وہ اسے اچھی لگتی ہے ، لیکن وہ چیز کسی اور کی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید کا سب ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر نے اُسے ضعیف کہا: ہے ، ان حضرات نے اُس کے ضعیف ہونے کی بنیاد اس بات پر رکھی ہے کہ اس پر حد جاری ہوئی تھی ، اس کا سماع صح