حدیث نمبر: 4994
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ : أَنَّهُ احْتَجَمَ ، وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ [ الْ ]كَرَاهَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں احرام باندھے ہوئے پچھنے لگوائے تھے ۔ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی تو اس لئے روزے دار شخص کے لئے پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے تھے ۔ آپ اس وقت روزہ دار تھے ، اور احرام باندھے ہوئے تھے اس روایت میں انہوں نے اس کے مکروہ ہونے کو ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن باب ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔ امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11320 و 11699 و12086) اخرجه ابو يعلي فى المسند (2449 ) اخرجه احمد فى المسند (2228 و3547) اخرجه البزار فى المسند (1015)»