مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا أَوْ جَامَعَ . باب: جو شخص رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر کوئی روزہ نہ رکھے یا ( روزے کے دوران ) صحبت کر لے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أَفْطَرْتُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا ، وَوَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِيهِ ؟ قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ : لَا أَجِدُ . قَالَ : " أَهْدِ بَدَنَةً " . قَالَ : لَا أَجِدُ . قَالَ : " تَصَدَّقْ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ أَوْ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ " . قَالَ : لَا أَجِدُ . فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْيَلٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . فَقَالَ : مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا . قَالَ : " فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْمَجَامِعِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں نے رمضان کے مہینے میں ایک دن جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا اور اس دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک غلام آزاد کرو اس نے عرض کی : میں یہ نہیں پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قربانی کا ایک جانور صدقہ کرو اس نے عرض کی : میں یہ نہیں پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کھجور کے بیس صاع یا انیس یا اکیس صاع صدقہ کرو اس نے عرض کی : میں اس کی بھی گنجائش نہیں پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیمانہ لایا گیا جس میں کھجوروں کے بیس صاع موجود تھے آپ نے فرمایا : تم انہیں صدقہ کر دو اس نے عرض کی : پورے مدینہ میں ہمارے گھر والوں سے زیادہ ان کا محتاج اور کوئی نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت منقول ہے ، جو صحبت کرنے والے شخص کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔