مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
حدیث نمبر: 4970
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ كِسْرَةٍ ؟ " . فَأَتَيْتُهُ بِقُرْصٍ فَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَلْ دَخَلَ بَطْنِي مِنْهُ شَيْءٌ ، كَذَلِكَ قُبْلَةُ الصَّائِمِ ، إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور دریافت کیا : اے عائشہ ! کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ میں نے روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنے منہ میں رکھ لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا میرے پیٹ میں اس سے کچھ داخل ہوا ہے ؟ روزہ دار کے بوسہ کا حکم بھی اسی طرح ہے روزہ اس چیز کی وجہ سے ختم ہوتا ہے ، جو اندر جاتی ہے اس چیز کی وجہ سے ختم نہیں ہوتا جو باہر نکلتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔