مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
وَعَنْ عَطِيَّةَ قَالَ : سَأَلَ شَابٌّ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَيُقَبِّلُ ، وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا . ثُمَّ جَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ : أَيُقَبِّلُ ، وَهُوَ صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ . قَالَ الشَّابُّ : سَأَلْتُكَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ فَقُلْتَ : لَا ، وَسَأَلَكَ هَذَا أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قُلْتَ : نَعَمْ . فَكَيْفَ يَحِلُّ لِهَذَا مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ وَأَنَا وَهُوَ عَلَى دِينٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ عِرْقَ الْخُصْيَتَيْنِ مُعَلَّقَةٌ بِالْأَنْفِ ، فَإِذَا شَمَّ الْأَنْفُ تَحَرَّكَ الذَّكَرُ ، وَإِذَا تَحَرَّكَ الذَّكَرُ دَعَا إِلَى مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ ! ! وَالشَّيْخُ أَمْلَكُ لِأَرَبِهِ - وَذَلِكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُ عَبْدِ اللَّهِ وَخَلْفَهُ امْرَأَةٌ - فَقَالَ : أَذَلَّكَ اللَّهُ مِنْ جَلِيسِ قَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَطِيَّةُ فِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤عطیہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : کیا وہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں پھر ایک بوڑھا شخص آیا اس نے دریافت کیا : میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو نوجوان نے کہا: میں نے آپ سے سوال کیا کہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں تو آپ نے جواب دیا : جی نہیں اس نے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہے ، تو آپ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس شخص کے لئے وہ چیز کیسے حلال ہو سکتی ہے ، جو مجھ پر حرام ہے ، جبکہ میں اور یہ ایک ہی دین کے پیروکار ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا : خصیوں کے اندر ایک رگ ہوتی ہے ، جو ناک سے متعلق ہوتی ہے ، جب ناک چیز سونگھتی ، تو شرمگاہ حرکت کرتی ہے ، اور جب شرمگاہ حرکت کرتی ہے ، تو یہ اس سے زیادہ بڑی چیز کی طرف لے جاتی ہے ، اور بوڑھا شخص اپنے آپ پر ق ابورکھتا ہے راوی کہتے ہیں : یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بینائی رخصت ہو جانے کے بعد کی بات ہے ان کے پیچھے ایک خاتون موجود تھیں تو ( بوڑھے شخص نے ) یہ کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم کے ہم محفل کی طرف سے ذلت کا شکار کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطیہ نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔