مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ : أُقَبِّلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ : أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ; إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں راوی کہتے ہیں : پھر ایک عمر رسیدہ شخص آیا اور اس نے عرض کی : کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے پتہ ہے تم کیوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ بوڑھا شخص اپنے آپ پر ق ابورکھتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔