مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
حدیث نمبر: 4960
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى الصَّائِمَ أَنْ يُقَبِّلَ وَيَقُولُ : إِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْعِصْمَةِ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ حِبَّانَ الرَّقِّيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ روزہ دار کو بوسہ لینے سے منع کرتے تھے وہ یہ فرماتے تھے : تم میں سے کسی کو بھی وہ عصمت حاصل نہیں ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حبان رقی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔