مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُ إِلَيَّ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : " أَوَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ " . فَقُلْتُ : وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَا أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ : قَالَ الْبَزَّارُ : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافُ هَذَا . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ میری طرف نہیں دیکھ رہے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لیا تھا ۔ میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عمر کی جان ہے اب میں کبھی بھی روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف بھی روایت کیا گیا ہے ۔