حدیث نمبر: 4921
عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَمَرُّوا بِنَهْرٍ فَسَدَّدُوا النَّظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَشْرَبُونَ ؟ " . قَالُوا : نَشْرَبُ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ وَالطَّائِفِ أَتَى الْجِعِرَّانَةَ فَقَسَّمَ الْغَنَائِمَ بِهَا ، وَاعْتَمَرَ مِنْهَا . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِمْ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اٹھارہ دن گزرنے کے بعد روانہ ہوئے آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا لوگوں کا گزر ایک نہر کے پاس سے ہوا لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم پینا چاہتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : کیا ہم پیئیں گے جبکہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوا کر ( پانی ) پی لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین اور غزوہ طائف سے فارغ ہوئے تو آپ جعرانہ تشریف لائے وہاں آپ نے مال غنیمت تقسیم کیا ، اور وہاں سے عمرہ کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور امام طبرانی کے رجال میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4921
درجۂ حدیث محدثین: ورجال أحمد رجال الصحيح، ورجال الطبراني فيهم سعيد بن بشير، وفيه كلام.