حدیث نمبر: 4919
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ وَصَامَ مَعَهُ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ أَصْحَابُهُ ، وَكَانَ الصَّائِمُ أَفْضَلَ مِنَ الْمُفْطِرِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَكَانَ الصَّائِمُ أَفْضَلَ مِنَ الْمُفْطِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا تو آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب نے بھی روزہ ختم کر دیا تو اس وقت روزہ دار ، روزہ نہ رکھنے والے سے افضل ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ نہیں ہیں : ” روزہ رکھنے والا شخص روزہ نہ رکھنے والے سے افضل ہو گیا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (1212)»