حدیث نمبر: 489
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، فَإِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَأَبُو حَفْصٍ صَاحِبُ أَنَسٍ مَجْهُولٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” زمین میں علماء کی مثال وہی ہے ، جو آسمان میں ستاروں کی ہے ، کہ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ، اُن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ، اور جب ستارے بجھ ( یعنی چھپ ) جائیں ، تو اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ ہدایت پانے والے بھی گمراہ ہو جائیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا شاگرد ابوحفص بھی مجہول ہے ، باقی اللہ بہتر

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 157/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 175»