وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي - وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ; فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا ، وَيَنْزِلُ هَذَا . فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَرَوَى لَهَا النَّسَائِيُّ : " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا عَلَى الْغَلَسِ مِنْ هَذَا " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میری پھوپھی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہے وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلال رات میں اذان دے دیتا ہے ، تو تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔ ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) ایک صاحب چڑھ رہے ہوتے تھے ، اور دوسرے اتر رہے ہوتے تھے تو ہم ان سے کہتے تھے : ٹھہر جائیں ! ہمیں سحری کر لینے دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس خاتون کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جب ابن ام مکتوم اذان دے تو اس میں سے اندھیرے میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی ) کھا لو “ ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔