حدیث نمبر: 4867
وَعَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ بِلَالٌ أَحَدَكُمْ مِنْ سُحُورِهِ ; فَإِنَّمَا بِلَالٌ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمُ الَّذِي فِي صَلَاتِهِ ، وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بلال تم میں سے کسی ایک کو سحری کرنے سے نہ روکے کیونکہ بلال اس لئے اذان دیتا ہے تاکہ نوافل پڑھنے والا نماز ختم کر کے واپس چلا جائے اور سویا ہوا شخص بیدار ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن زیاد ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔