حدیث نمبر: 4865
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ ، فَجَاءَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ ، فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسٍ ، فَجَاءَ بِلَالٌ لِيُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ : " رُوَيْدَكَ يَا بِلَالُ ، يَتَسَحَّرُ عَلْقَمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کی آپ کے پاس کچھ افراد موجود تھے علقمہ بن علاثہ عامری آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بلوا لیا پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے بلانے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال ٹھہر جاؤ ! علقمہ سحری کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔