وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْمُزَنِيِّ قَالَ : خَمْسٌ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَفَرَ ، وَلَا عَدْوَى ، وَلَا هَامَّ ، وَلَا يَتِمُّ شَهْرَانِ سِتِّينَ لَيْلَةً ، وَمَنْ خَفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ دُحَيْمٌ : ثِقَةٌ لَهُ أَحَادِيثُ يَغْلِطُ فِيهَا . وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن ابوعمیرہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پانچ باتیں یاد ہیں یہ کہ صفر ( کے مہینے کا منحوس ہونا ) عدوی ( بیماری کے متعدی ہونے ) اور ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور دو مہینے یعنی ساٹھ راتیں مکمل نہیں ہوتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے دحیم کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں جس میں یہ غلطی کرتا ہے جمہورائمہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔