حدیث نمبر: 4785
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مُحْتَسِبًا كَانَ لَهُ بِصَوْمِهِ مَا لَوْ أَنَّ أَهْلَ الدُّنْيَا اجْتَمَعُوا مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ لَأَوْسَعَهُمْ طَعَامًا وَشَرَابًا لَا يَطْلُبُ إِلَى أَهْلِ [ الْجَنَّةِ ] شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَلَانِسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے مہینے میں ایک روزہ رکھتا ہے ، تو اس کے عوض میں وہ کچھ ملتا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے لے کر اس دنیا کے ختم ہونے تک اگر تمام اہل دنیا اکٹھے ہو جائیں تو وہ ان سب کے کھانے پینے کا بندوبست کر سکتا ہے وہ اس سلسلے میں اہل جنت میں سے کسی سے کوئی چیز نہیں مانگے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید قلانسی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11199)»