مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ . باب: جس شخص کا اجر اُس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ : رَجُلٌ مُرَابِطٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أُجْرِيَ عَلَيْهِ مِثْلُ مَا عَمِلَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا [ فَهُوَ ] يَدْعُو لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِيمَنْ عَلِمَ عِلْمًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے اجر مرنے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں وہ شخص جو اللہ کی راہ میں پہرا دے رہا ہو وہ شخص جو کوئی ایسا عمل کرے کہ اس کو اس حوالے سے اجر دیا جائے کہ جو اس کی مانند عمل کرتا ہے وہ شخص جو کوئی چیز صدقہ دے تو اس کا عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے ، جب تک وہ صدقہ چلتا رہتا ہے وہ شخص جو نیک اولاد چھوڑ کر جائے اور وہ اس کے لئے دعا کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے اس کی ایک سند اس باب میں گزر چکی ہے ، جو علم حاصل کرنے کے بیان میں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔