مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُؤْجَرُ فِيهِ الْمُسْلِمُ . باب: اُن چیزوں کا بیان جن میں مسلمان کو اجر دیا جاتا ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : حَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ ، فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ مُنْذُ عَرَفْنَا الْإِسْلَامَ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِنَا بِهِ ! ! قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُؤْجَرُ عَنْ إِمَاطَتِهِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَفِي هِدَايَتِهِ السَّبِيلَ ، وَفِي تَعْبِيرِهِ عَنِ الْأَرْثَمِ ، وَفِي مِنْحَةِ اللَّبَنِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ مَصْرُورَةً [ فِي ثَوْبِهِ ] فَيَلْمَسُهَا فَتُخْطِئُهَا يَدُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " وَإِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي إِتْيَانِهِ أَهْلَهُ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ فَيَلْمَسُهَا فَيَعْقِدُ مَكَانَهَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَخْفِقُ بِذَلِكَ فُؤَادُهُ ، فَيَرُدُّهَا اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَيَكْتُبُ لَهُ أَجْرَهَا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی نے ایک حدیث ارشاد فرمائی ہمیں اسلام کی معرفت نصیب ہونے کے بعد کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات پر خوشی ہوئی آپ نے ارشاد فرمایا : ” مومن کو اس بات پر بھی اجر ملتا ہے کہ وہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے یا راستے کے بارے میں کسی کی رہنمائی کر دے یا کسی ایسے شخص کا مفہوم واضح کر دے جو صحیح طرح سے کلام نہ کر سکتا ہو ، یا دودھ عطیہ کر دے ، یہاں تک کہ اسے اس سامان کے بارے میں بھی اجر ملتا ہے ، جو اس نے اپنے کپڑے کے اندر جیب میں رکھا ہوتا ہے پھر جب وہ اس کو چھوتا ہے ، تو اس کے ہاتھ کو وہ نہیں ملتا ( یعنی گم ہو چکا ہوتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرنے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اسے اس سامان کا بھی اجر ملتا ہے ، جو اس کے کپڑے کے ایک کنارے پر موجود ہو وہ اس کو چھوئے اس کی جگہ پر گرہ لگا دے یا اس کی مانند کوئی اور بات کہی ہے ( اور پھر وہ سامان نہ ملے ) تو اس کے دل کو اس کے حوالے سے جو پریشانی لاحق ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ وہ سامان واپس بھی کر دے تو اس کے لئے اس ( پریشانی ) کا اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی منهال بن خلیفہ ہے اسے ابوحاتم نے امام ابوداؤد نے اور امام بزار نے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔