مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَطْعَمَ مُسْلِمًا أَوْ سَقَاهُ . باب: جو شخص کسی مسلمان کو کچھ کھلائے یا اسے پلائے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ حَتَّى يُشْبِعَهُ وَسَقَاهُ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى يَرْوِيَهُ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ سَبْعَ خَنَادِقَ ; مَا بَيْنَ كُلِّ خَنْدَقَيْنِ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ خُبْزًا " . وَفِيهِ رَجَاءُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کو کھلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیر کر دیتا ہے ، اور اسے پانی پلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیراب کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے سات خندقوں جتنا دور کر دے گا جن میں سے ہر دو خندقوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فیصلہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کو روٹی کھلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی رجاء بن ابوعطاء ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔