حدیث نمبر: 4719
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اهْتَمَّ بِجَوْعَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ حَتَّى شَبِعَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَسَقَاهُ حَتَّى يُرْوَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی بھوک کا خیال کر کے اسے کچھ کھلائے یہاں تک کہ اس کو سیر کر دے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اسے یوں سیراب کرے گا کہ وہ سیر ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4720
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ حَتَّى يُشْبِعَهُ وَسَقَاهُ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى يَرْوِيَهُ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ سَبْعَ خَنَادِقَ ; مَا بَيْنَ كُلِّ خَنْدَقَيْنِ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ خُبْزًا " . وَفِيهِ رَجَاءُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کو کھلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیر کر دیتا ہے ، اور اسے پانی پلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیراب کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے سات خندقوں جتنا دور کر دے گا جن میں سے ہر دو خندقوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فیصلہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کو روٹی کھلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی رجاء بن ابوعطاء ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کو روٹی کھلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی رجاء بن ابوعطاء ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4721
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِدْخَالُكَ السُّرُورَ عَلَى مُؤْمِنٍ أَشْبَعْتَ جَوْعَتَهُ ، أَوْ سَتَرْتَ عَوْرَتَهُ ، أَوْ قَضَيْتَ لَهُ حَاجَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا مومن پر خوشی داخل کرنا ( یوں کہ ) اس کی بھوک کے عالم میں تم اسے سیر کر دو یا اسے لباس فراہم کر دو یا اس کی کوئی اور ضرورت پوری کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بشیر کندی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بشیر کندی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4722
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا حَتَّى يُشْبِعَهُ مِنْ سَغَبٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا مَنْ كَانَ مِثْلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ يَتْبَعُ السُّلْطَانَ ، وَكَانَ صَدُوقًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی مؤمن کو کھلاتا ہے یہاں تک کہ اسے بھوک کے عالم میں سیر کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالٰی اسے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل کرے گا اس دروازے میں سے صرف وہ شخص داخل ہو سکے گا جس نے اس کی مانند کام کیا ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : یہ حاکم وقت کے پاس آیا جایا کرتا تھا ویسے یہ صدوق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : یہ حاکم وقت کے پاس آیا جایا کرتا تھا ویسے یہ صدوق ہے ۔