حدیث نمبر: 4704
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي نَخْلَةَ عِذْقٍ ، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عِذْقِهِ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بِعْنِي عِذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَبْهُ لِي " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَبِعْنِيهِ بِعِذْقٍ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : لَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے باغ میں فلاں شخص کا ایک گچھہ ہے وہ شخص مجھے تکلیف دیتا ہے ، اور اس کا کھجوروں کا گچھہ موجود ہونا مجھے گراں گزرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : تم اپنا گچھہ جو فلاں شخص کے باغ میں موجود ہے وہ مجھے فروخت کر دو اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تم مجھے ہبہ کر دو اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں کھجوروں کے گچھے کے عوض میں تم مجھے وہ فروخت کر دو اس نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تم سے زیادہ بخیل شخص کوئی نہیں دیکھا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو سلام کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (328/3)»