حدیث نمبر: 4681
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنَ الذَّهَبِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " مَا كَانَ مُحَمَّدٌ قَائِلًا لِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ؟ " . فَقَسَّمَهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ وَقَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِثْلَ هَذَا الْجَبَلِ " . - وَأَشَارَ إِلَى أُحُدٍ - " ذَهَبًا ، وَفِضَّةً فَيُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَتْرُكُ مِنْهَا دِينَارًا " . ¤ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً ، وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهَا وَيُطْعِمُ عِيَالَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا آپ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا محمد اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا عرض کرے گا : اگر وہ ایسی حالت میں مر گیا کہ اس کے پاس یہ ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے اٹھنے سے پہلے اسے تقسیم کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب “ کے پاس ( مطبوعہ متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہاں لفظ ” اصحاب “ زائد ہے ، اصل عبارت یوں ہونی چاہیے : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس “ ) اس پہاڑ جتنا سونا یا چاندی ہو ، آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : اور پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور اس میں سے ایک دینار چھوڑ دے ( یعنی ایک دینار چھوڑنا بھی پسند نہیں ہے ) ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ نے کوئی دینار کوئی درہم کوئی غلام یا کوئی کنیز ( ترکہ میں ) نہیں چھوڑا آپ نے اپنی زرہ ترکہ میں چھوڑی تھی وہ جو کے تیس صاع کے عوض میں ایک یہودی شخص کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی آپ ان جو کو خود کھاتے تھے ، اور اپنے اہل خانہ کو کھلایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11697)»