حدیث نمبر: 4680
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَشَرَ اللَّهُ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِهِ أَكْثَرَ لَهُمَا الْمَالَ ، وَالْوَلَدَ ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا : أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ؟ قَالَ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ . قَالَ : وَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : تَرَكْتُهُ لِوَلَدِي مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ عَلَيْهِمْ . قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتَ كَثِيرًا . أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ . وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ؟ فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ لَهُ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ . قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : أَنْفَقْتُ فِي طَاعَتِكَ ، وَوَثِقْتُ لِوَلَدِي مِنْ بَعْدِي بِحُسْنِ طَوْلِكَ . قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ كَثِيرًا وَلَبَكَيْتَ قَلِيلًا ، أَمَا إِنَّ الَّذِي قَدْ وَثِقْتَ لَهُمْ بِهِ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے دو بندوں کو زندہ کرے گا جنہیں اس نے بکثرت مال اور اولاد عطا کی ہو گی ان میں سے ایک سے دریافت کرے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں عطا کیا تھا تم نے اس کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا وہ جواب دے گا میں نے اسے اپنی اولاد کے لئے چھوڑ دیا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ان کو غربت لاحق نہ ہو جائے تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ان کے بارے میں تمہیں جس کا اندیشہ تھا وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے پھر پروردگار دوسرے شخص سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا میں حاضر ہوں اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار اس سے دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں دیا تھا اس کے بارے میں تم نے کیا طرز عمل اختیار کیا وہ عرض کرے گا میں نے اسے تیری فرمانبرداری کے کام میں خرچ کیا ، اور اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے میں نے تیرے کرم پر بھروسہ کیا ، تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم زیادہ ہنستے اور تھوڑا روتے ( مطبوعہ متن میں یہ الفاظ اسی طرح ہیں لیکن شاید یہاں یہ عبارت ہونی چاہیے تھی : اگر تم علم رکھتے ہوتے ، تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ) ، جس چیز کے بارے میں تم نے ان لوگوں کے حوالے سے توقع رکھی تھی ، وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4680
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (600)»