مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي نَفَقَةِ الرَّجُلِ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: آدمی کا اپنی ذات ، اپنے اہل خانہ اور دیگر پر خرچ کرنا
حدیث نمبر: 4663
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أُعْطِيَ مِنْ فَضْلِ مَا خَوَّلَنِي اللَّهُ ؟ قَالَ : " ابْدَأْ بِأُمِّكَ ، وَأَبِيكَ ، وَأُخْتِكَ ، وَأَخِيكَ ، وَالْأَدْنَى فَالْأَدْنَى ، وَلَا تَنْسَ الْجِيرَانَ وَذَا الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے عطا کیا ہے اس میں سے جو اضافی چیز ہے وہ میں کسے دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں سے آغاز کرو پھر اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کو دو اور تم پڑوسیوں اور حاجت مندوں کو نہ بھول جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔