مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا . باب: قریبی رشتہ داروں کو صدقہ کرنا ، عورت کا اپنے شوہر کو صدقہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الرِّجَالِ ، وَالنِّسَاءِ ، فَحَضَّ الرِّجَالَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ أَقْبَلُ عَلَى النِّسَاءِ فَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ زَيْنَبُ - امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ - بِلَالًا فَقَالَتْ : اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ السَّلَامَ ، وَلَا تُبَيِّنْ لَهُ ، وَقُلْ لَهُ : هَلْ لَهَا مَنْ أَجْرٍ فِي زَوْجِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ وَأَيْتَامٌ فِي حِجْرِهَا - وَهُمْ بَنُو أَخِيهَا - أَنْ تَجْعَلَ صَدَقَتَهَا فِيهِمْ ؟ فَأَتَى بِلَالٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " نَعَمْ لَهَا أَجْرُهَا أَجْرَانِ : أَجْرُ الْقَرَابَةِ ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے پہلے مردوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پھر آپ خواتین کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اس خاتون نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا کہ مہاجرین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سلام پیش کیا ہے تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بیان نہ کرنا ( کہ میں نے یہ کہا: ہے ) تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ کیا اس عورت کو اپنے شوہر کے بارے میں اجر ملے گا جس کا تعلق مہاجرین سے ہے ، اور جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، اور اس عورت کے زیر پرورش یتیم بچے بھی ہیں اور وہ بچے اس عورت کے بھتیجے ہیں کہ اگر وہ صدقہ کو ان ( بچوں اور اپنے شوہر ) پر خرچ کرتی ہے ؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس عورت کو دگنا اجر ملے گا رشتے داری کے حقوق ادا کرنے کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔